فهرس الكتاب

الصفحة 4307 من 5761

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

جو شخص جانور کو تیر مارے ، پھر وہ اس سے غائب ہو جائے تو ؟

4307 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْمِي الصَّيْدَ، فَأَطْلُبُ أَثَرَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍ، قَالَ: «إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ، وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبُعٌ فَكُلْ»

حضرت عد بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ میں عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں شکار کو تیر مارتا ہوں، پھر اس کا کھوج لگاتے ہوئے ایک رات کے بعد اسے پاتا ہوں (تو کیا کروں؟) آپ نے فرمایا:''جب تو اس میں اپنا تیر پہچان لے۔ تو اسے کھا سکتا ہے بشر طیکہ کسی درندے نے اس میں سے کچھ نہ کھایا ہو۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت