فهرس الكتاب

الصفحة 4331 من 5761

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

درندوں کا کھانا حرام ہے

4331 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ النُّهْبَى وَلَا يَحِلُّ مِنْ السِّبَاعِ كُلُّ ذِي نَابٍ وَلَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ڈاکا ڈالنا حلال نہیں اور کوئی کچلی والا درندہ بھی حلال نہیں۔ اور باندھ کر نشانوں سے مارا ہوا جانور بھی حلال نہیں۔''

''باندھ کر نشانوں سے مارا ہوا جانور'' اس سے مراد وہ جانور ہے جس کو پکڑ کر اس طرح باندھ دیا جائے کہ وہ بھاگ نہ سکے بلکہ حرکت بھی نہ کر سکے اور پھر تیروں وغیرہ کے ساتھ نشانے باندھ باندھ کر اسے تڑپا تڑپا کر مارا جائے۔ یہ طریقہ ظالمانہ ہونے کے ساتھ ساتھ اور شکار کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ اصول یہ ہے کہ جو جانور پکڑا ہوا ہے، خواہ وہ گھریلو ہو یا جنگلی، اسے لٹا کر ذبح کیا جائے یا کھڑا کر کے نحر کیا جائے۔ اور اگر وہ جانور قابو میں نہ رہے، جیسے جنگلی جانور ہوتے ہیں تو اسے بسم اللہ پڑھ کر تیر یا کتے کے ساتھ شکار کیا جائے۔ ان دو طریقوں کے علاوہ مارا گیا جانور حرام ہوگا۔ اس کا حکم مردار کا ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت