فهرس الكتاب

الصفحة 4350 من 5761

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

جنگلی گدھوں کا گوشت کھاناجائز ہے

4350 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ أَصَابَ حِمَارًا وَحْشِيًّا فَأَتَى بِهِ أَصْحَابَهُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهُوَ حَلَالٌ فَأَكَلْنَا مِنْهُ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ لَوْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ قَدْ أَحْسَنْتُمْ فَقَالَ لَنَا هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَاهْدُوا لَنَا فَأَتَيْنَاهُ مِنْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا۔ میں اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا۔ وہ سب محرم تھے۔ صرف میں محرم نہیں تھا۔ ہم سب نے اس میں سے کچھ گوشت کھا لیا، پھر ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے: اگر ہما س کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لیں (تو بہتر ہے) ۔ ہم نے آپ سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ''تم نے اچھا کیا۔'' پھر فرمایا: ''کیا تمھارے پاس اس کا کچھ گوشت باقی ہے؟'' ہم نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ''کچھ ہمیں بھی بھیجو!'' ہم نے آپ کو بھیجا۔ آپ نے اسے کھایا، حالانکہ آپ محرم تھے۔

غیر محرم کا اپنے لیے کیا ہوا شکار محرم کے لیے کھانا جائز ہے بشرطیکہ اس نے کوئی تعاون نہ کیا ہو حتی کہ اشارہ تک نہ کیا ہو، نیز شکار کرتے وقت غیر محرم کی نیت محرمین کے لیے شکار کی نہ ہو۔ بلکہ وہ شکار اپنے لیے کرے، پھر بے شک وہ اس میں سے کچھ گوشت کسی محرم کو دے دے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت