فهرس الكتاب

الصفحة 4388 من 5761

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل

مسنہ اور جذعہ جانور(کی قربانی) کابیان

4388 أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحَى فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَشْتَرِي الْمُسِنَّةَ بِالْجَذَعَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فَقَالَ لَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ هَذَا الْيَوْمُ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَطْلُبُ الْمُسِنَّةَ بِالْجَذَعَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْجَذَعَ يُوفِي مِمَّا يُوفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ

حضرت عاصم بن کلیب کے والد محترم نے فرمایا: ہم ایک سفر میں تھے۔ قربانیوں کا وقت آ گیا تو ہم میں سے کوئی شخص دو دو، تین تین جذعے دے کر مسنہ خریدتا تھا۔ مزینہ قبیلے کا ایک شخص ہمیں کہنے لگا: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ یہ دن (عید الاضحی) آ گیا تو لوگ دو دو، تین تین جذعے دے کر مسنہ خریدنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''جذعہ کفایت کر سکتا ہے جہاں دو دانتا کفایت کرتا ہے۔''

1)مسنہ اور بوقت ضرورت بھیڑ کے جذعہ کی قربانی جائز ہے۔2) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں بھی قربانی کرنا مشروع ہے۔3) جانوروں کی،جانوروں کے بدلے خریدہ فروخت جائز ہے، نیز اس میں کمی بیشی بھی جائد ہے، یعنی ایک جانور بدلے میں دو یا زیادہ جانور لیے اور دیے جا سکتے ہیں۔4) اس اور دیگر روایات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسنہ کی قربانی افضل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت