فهرس الكتاب

الصفحة 4392 من 5761

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل

مینڈھے کی قربانی کا بیان

4392 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دو چتکبرے، سینگوں والے مینڈھے قربان کیے۔ آپ نے ان کو اپنے سے ذبح فرمایا۔ بسم اللہ پڑھی اور اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں ان کی گردن کے پہلو پر رکھا۔

ترتیب الٹ ہے۔ آپ نے جانور لٹایا۔ اپنا پاؤں اس کی گردن کے پہلو پر رکھا۔ بسم اللہ و اللہ اکبر پڑھا اور اپنے دست مبارک سے اسے ذبح فرمایا۔ گردن کے پہلو پر پاؤں رکھنے کی وجہ اسے قابو تھا تاکہ چھری چلنے کے دور ان میں ان وہ اٹھ کٹھرا نہ ہو، نیز چھری تیزی اور قوت سے چل سکے۔ سر ادھر ادھر نہ حرکت کرے۔ اور زیادہ تکلیف نہ ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت