4407 أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ فَحَدَّثَنِي عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ نَاقَةٌ تَرْعَى فِي قِبَلِ أُحُدٍ فَعُرِضَ لَهَا فَنَحَرَهَا بِوَتَدٍ فَقُلْتُ لِزَيْدٍ وَتَدٌ مِنْ خَشَبٍ أَوْ حَدِيدٍ قَالَ لَا بَلْ خَشَبٌ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک انصاری کی اونٹنی احد کی طرف چر رہی تھی کہ وہ قریب المرگ ہو گئی۔ اس انصاری نے اسے ایک نوک دار کھونٹے کے ساتھ نحر (ذبح) کر دیا۔ (راوی حدیث ایوب یا جریر نے کہا) میں نے پوچھا کہ وہ کھونٹا لکڑی کا تھا یا لو ہے کا؟ استاد نے کہا: نہیں، وہ لکڑی کا تھا، پھر وہ انصاری نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے مسئلہ پوچھا۔ آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔
''حکم دیا''یعنی اجازت دی یا حقیقتاََ حکم مراد ہے کیونکہ شریعت کی رو سے حلال چیز کو ضائع کرنا جائز نہیں۔