فهرس الكتاب

الصفحة 4415 من 5761

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل

باب: کوئی جانور چھوٹ جائے اور قابو میں نہ آ سکے تو؟

4415 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى قَالَ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكُمْ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ وَأَصَبْنَا نَهْبَةَ إِبِلٍ أَوْ غَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کل دشمن سے ہماری ملاقات ہو گی اور ہمارے پاس چھری (وغیرہ کچھ) نہیں۔ آپ نے فرمایا: ''جو چیز بھی خون بہا دے بشرطیکہ اللہ کا نام لیا گیا ہو، اسے کھا سکتے ہو۔ علاوہ دانت اور ناخن کے۔ اور اس کی وجہ بھی میں تمہیں بیان کرتا ہوں: دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے''۔ ہمیں اس جنگ میں اونٹ اور بکریاں مال غنیمت میں حاصل ہوئیں۔ ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا تو ایک آدمی نے تیر مار کر اسے روک دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یہ اونٹ بھی کبھی جنگلی جانوروں کی طرح بھاگ اٹھتے ہیں۔ جب وہ تم سے بے قابو ہو جائیں تو تم ان سے یہی سلوک کرو۔''

ابتدائی حصے کی تفصیل کے لیے دیکھئے، حدیث: ۴۴۰۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت