4429 أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ غُنْدَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ عَوْفٍ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي يَوْمِ عِيدٍ بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ صَلَّى بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُمْسِكَ أَحَدٌ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
حضرت ابو عبید سے روایت ہے کہ میں نے عید کے دن حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید پڑھی۔ آپ نے خطبے سے پہلے نماز عید پڑھائی۔ اذان ہوئی نہ اقامت، پھر فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ تین دن سے زائد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرماتے تھے۔
(۱) یہ حدیث مبارکہ خطبۂ عید کی مشروعیت پر واضح دلیل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خطبۂ عید پر مداومت اور ہمیشگی فرمائی ہے۔ (۲) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خطبۂ عید اور خطبۂ جمعۃ المبارک ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ خطبۂ عید، نماز عید کے بعد ہوتا ہے جبکہ خطبۂ جمعہ، نماز جمعہ سے پہلے ہوتا ہے، البتہ عید اور جمعہ دونوں کے خطبے کھڑے ہو کر دینا مشروع ہے الا کہ کوئی معقول شرعی عذر ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے عید اور جمعۃ المبارک کا خطبہ ہمیشہ کھڑے ہو کر دیا ہے۔ (۳) نماز عیدین کے لیے اذان ہے نہ اقامت۔