فهرس الكتاب

الصفحة 4500 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

باب: شہری کے لیے دیہاتی کا مال بیچنا جائز نہیں

4500 أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کوئی شہری سی دیہاتی کا سامان نہ بیچے بلکہ لوگوں کو خود بیچنے دو تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ایک دوسرے سے رزق عطا فرمائے۔''

مقصود یہ ہے کہ معاملات فطری طریقے سے جاری رہنے چاہئیں۔ مصنوعی طریقے سے قلت پیدا کر کے یا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے سے مہنگائی پیدا نہیں کرنا چاہیے بلکہ جوں جوں پیداوار آتی جائے، بازار میں فروخت ہوتی جائے اور ضرورت مند لوگوں تک پہنچتی رہے۔ ظاہر ہے اگر شہری دیہاتی کا مال بیچے گا تو ذخیرہ اندوزی کرے گا اور مصنوعی قلت پیدا کرے گا تاکہ پیداوار مہنگی فروخت ہو اور اس کا اپنا فائدہ ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت