فهرس الكتاب

الصفحة 4505 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

باب: تجارتی قافلے کو منڈی سے باہر جا کر ملنا

4505 أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ سِيرِينَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلَقَّوْا الْجَلْبَ فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ''تجارتی قافلوں کو منڈی سے باہر جا کر نہ ملو۔ اگر کوئی تاجر منڈی سے باہر جا کر ملے گا اور قافلے سے کوئی چیز خریدے گا تو جب قافلہ بازار میں پہنچے گا، مالک کو اختیار ہو گا کہ وہ سودا واپس کر لے۔''

''واپس کر لے'' کیونکہ تاجر نے اس سے دھوکا کیا ہے اور دھوکا شریعت میں جائز نہیں، لہٰذا وہ بیع فسخ ہو سکتی ہے بشرطیکہ مالک کو یہ محسوس ہو کہ مجھے دھوکا دے کر مال بازار سے کم قیمت پر خریدا گیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت