4511 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَكْفِئَ بِهِ مَا فِي صَحْفَتِهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے۔ بھائو نہ بڑھائو۔ کوئی شخص اپنے بھائی کے طے شدہ سودے پر اضافے کا لالچ نہ دے اور کوئی عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے برتن کو انڈیل دے۔''
''اضافے کا لالچ نہ دے'' یعنی ایک شخص سودا طے کر چکا ہے۔ اب کوئی اور شخص دکان دار کو زیادہ قیمت کا لالچ دے کر سابقہ سودا منسوخ کرنے اور اپنے ساتھ نیا سودا کرنے کی ترغیب دے، یہ منع ہے کیونکہ اس میں پہلے شخص کی حق تلفی ہے جو سودا کر چکا ہے۔ ایسی صورت میں دوسرا سودا معتبر نہیں ہو گا بلکہ کالعدم ہو گا۔