فهرس الكتاب

الصفحة 4519 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

باب: اس(منابذہ)کی تفسیر

4519 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ أَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ إِذَا نَبَذْتُ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ يَعْنِي الْبَيْعَ وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلَا يَنْشُرَهُ وَلَا يُقَلِّبَهُ إِذَا مَسَّهُ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو قسم کے لباس اور دو قسم کے سودوں سے منع فرمایا ہے۔ سودے تو ملامسہ اور منابذہ ہیں۔ منابذہ یہ ہے کہ بیچنے والا کہتے کہ جب میں یہ کپڑا پھینک دوں گا، بیع پکی ہو جائے گی۔ اور ملامسہ یہ ہے کہ خردینے والا کپڑے کو صرف ہاتھ سے چھوڑ اور اسے کھول کر الٹ پلٹ کر نہ دیکھے۔ جب چھو لیا تو سودا پکا ہو گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت