فهرس الكتاب

الصفحة 4560 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

باب: کھجور کی بیع کھجور کے بدلے میں کمی بیشی کے ساتھ (جائز نہیں)

4560 أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ قَالَ كُنَّا نَبِيعُ تَمْرَ الْجَمْعِ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ردی کھجوروں کے دو صاع دے کر ایک صاع عمدہ کھجور لے لیا کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''دو صاع کھجور کا سودا ایک صاع کے بدلے نہیں ہو سکتا۔ نہ دو در ہم کو ایک در ہم کے بدلے فروخت کیا جا سکتا ہے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت