فهرس الكتاب

الصفحة 4635 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

ایک بیع میں دو شرطیں لگانا اور اس سے مراد یہ ہے کہ بیچنے والا کہے کہ ایک ماہ کے ادھار پر یہ بھاؤ ہوگا اور دو ماہ کے ادھار پر بھاؤ دوسرا ہوگا

4635 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ، وَعَنْ شَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ وَاحِدٍ، وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ، وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ»

حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے قرض کی شرط پر بیع، ایک بیع میں دو شرطوں اور غیر موجود چیز کی بیع اور غیر مقبوضہ چیز کے منافع سے منع فرمایا ہے۔

تمام تفصیلات دیکھنے کے لیے حدیث نمبر 4616'4633 ملاحطہ فرمائیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت