فهرس الكتاب

الصفحة 4647 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

اگر بیع میں کوئی فاسد شرط لگالی جائے تو بیع صحیح ہوگی، البتہ وہ شرط غیر معتبر ہوگی

4647 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، وَأَنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ» وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ: هَذَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ، وَخُيِّرَتْ»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے اسے خریدنے کا ارادہ کیا لیکن اس کے مالکوں نے اپنے لیے ولا کی شرط لگالی۔ انھوں نے یہ بات رسول اللہﷺ سے ذکر کی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔ بلاشبہ ولا اسی کی ہوتی ہے جو (غلام کو) آزاد کرتا ہے۔'' (یہ واقعہ بھی ہوا کہ) رسول اللہﷺ کے پاس گوشت لایا گیا اور بتلایا گیا کہ یہ گوشت بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے (اور اس نے ہمیں بھیجا ہے) ۔ آپ نے فرمایا: ''صدقہ اس کے لیے ہے۔ ہمارے لیے تحفہ ہی ہے۔'' اور اسے (خاوند کے بارے میں) اختیار دیا گیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت