کتاب: قسامت 'قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل
4754 أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ، لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا»
حضرت عبداللہ بن عمروبن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: '۔جس شخص نے کسی ذمی کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پا سکے گا جبکہ اس کی خوشبو تو چالیس سال کے فاصلے سے محسوس ہوتی ہے۔''
''چالیس سال'' چالیس سال میں ستر کی نفی نہیں، لہٰذا یہ روایت ساب قہ روایت کے خلاف نہیں۔ اور اگر کثرت کے معنی مراد ہوں تو پھر تو سرے سے کوئی اشکال نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ وہ جنت سے بہت دور رہے گا۔ لیکن اس سے مراد ابتدا ہے ورنہ آخر کار ہر مومن جنت میں جائے گا جیسا کہ پیچھے بیان ہو چکا ہے۔