فهرس الكتاب

الصفحة 4768 من 5761

کتاب: قسامت 'قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

آدمی اپنا دفاع کرے(اور اس سے فریق ثانی کا نقصان ہو جائے تو کوئی قصاص اور تاوان نہیں)

4768 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَاتَلَ رَجُلًا، فَعَضَّ يَدَهُ، فَانْتَزَعَهَا فَأَلْقَى ثَنِيَّتَهُ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْبَكْرُ؟» فَأَطَلَّهَا أَيْ أَبْطَلَهَا

حضرت یعلی ابن منیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ بنو تمیم کے ایک آدمی نے ایک دوسرے شخص سے لڑائی کی اور اس کے ہاتھ پر دانت گاڑ دیے۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو ساتھ ہی اس کا دانت بھی باہر آگیا۔ وہ یہ جھگڑا رسول اللہﷺ کے پاس لے گئے تو آپ نے فرمایا: ''تم اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتے ہو جس طرح اونٹ کاٹتا ہے؟'' پھر آپ نے اسے باطل قرار دیا، یعنی اس کے دانت کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت