فهرس الكتاب

الصفحة 4788 من 5761

کتاب: قسامت 'قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

قصاص معاف کرنے کا مشورہ دینے کا بیان

4788 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَبَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «مَا أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ فِيهِ قِصَاصٌ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب بھی نبی اکرمﷺ کے پاس قصاص کا کوئی مقدمہ آیا آپ نے معافی کا مشورہ دیا۔

معلوم ہوا معاف کرنا افضل ہے بشرطیکہ فریق ثانی عاجزی کے ساتھ معافی کا طلب گار ہو۔ اگر وہ فخر و غرور میں ہو یا زبردستی کی معافی چاہتا ہو تو قصاص اور انتقام افضل ہے۔ پھر معافی کے بعد دیت ضرور ہونی چاہیے تاکہ خون کی اہمیت رہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت