فهرس الكتاب

الصفحة 4791 من 5761

کتاب: قسامت 'قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

جب مقتول کا وارث قصاص معاف کر دے تو کیا قاتل عمد سے دیت لی جائے گی؟

4791 أَخْبَرَنَاإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَائِذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ حَمْزَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ» مُرْسَلٌ

حضرت ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جس شخص کا رشتہ دار مارا جائے۔'' یہ روایت مرسل ہے۔

مرسل کا مطلب یہ ہے کہ اس روایت میں اصل راوی، یعنی صحابی کا نام نہیں لیا گیا بلکہ شاگرد نے خود ہی فرمان بیان کر دیا۔ ''رشتہ دار'' ہر رشتہ دار مقتول کا وارث نہیں بن سکتا بلکہ اولین حق دار بیٹے، پوتے ہیں۔ پھر باپ دادا، پھر بھائی بھتیجے، پھر چچا وغیرہ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت