کتاب: قسامت 'قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل
4794 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُهُ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ أَوْ رِمِّيَّةٍ بِحَجَرٍ أَوْ سَوْطٍ أَوْ عَصًا فَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَإِ، وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ، وَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا»
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مرفوعًا بیان فرمایا کہ جو شخص پتھروں، کوڑوں یا ڈنڈوں کی اندھا دھند لڑائی میں مارا جائے تو اس کی دیت قتل خطا والی ہوگی لیکن جسے جان بوجھ کر مارا گیا، اس کا قصاص لیا جائے گا۔ اور جو شخص قصاص میں رکاوٹ بنے، اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور سب لوگوں کی طرف سے لعنت۔ اللہ تعالیٰ نہ اس کا فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔''
مرفوعًا سے مراد رسول اللہﷺ کا فرمان ہے، کبھی اختصار کی خاطر ایسے کہہ دیا جاتا ہے۔