فهرس الكتاب

الصفحة 4815 من 5761

کتاب: قسامت 'قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

مکاتب غلام کی دیت

4815 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ النَّقَّاشِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُكَاتَبُ يَعْتِقُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى، وَيُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ، وَيَرِثُ بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''مکتابت اتنا آزاد ہے جس قدر وہ مکاتبت ادا کر چکا ہے اور وہ جس قدر آزاد ہے، اتنی اس پر حد لگائی جائے گی اور جس قدر وہ آزاد ہے، اتنا وہ وارث بنے گا۔''

حدیث کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ مکاتب جس تناسب سے مکاتبت کی رقم آزاد کر چکا ہے، اتنا وہ آزاد ہے۔ اگر نصف رقم ادا کر چکا ہے تو نصف آزاد ہے۔ اس کے ساتھ نصف آزاد والا سلوک کیا جائے گا، حد میں بھی اور وراثت میں بھی۔ اور باقی نصف غلام سلوک کیا جائے گا جیسا کہ حدیث میں واضح طور پر یہ بات موجود ہے۔ واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت