فهرس الكتاب

الصفحة 4863 من 5761

کتاب: قسامت 'قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل

دیت کے مسائل کے بارے میں حضرت عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف

4863 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرَى يَحُكُّ بِهَا رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ»

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خبر دی کہ ایک آدمی نبی اکرمﷺ کے دروازے کے سوراخ سے جھانکنے لگا۔ اور رسول اللہﷺ کے پاس ایک نوکدار لکڑی تھی جس سے آپ اپنے سر کو کھجلی فرما رہے تھے۔ جب رسول اللہﷺ نے اس کو دیکھا تو فرمایا: ''اگر مجھے علم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں یہ لکڑی تیری آنکھ میں مار دیتا۔ اجازت لینے کا حکم تو اسی لیے دیا گیا ہے کہ نظر نہ پڑ سکے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت