فهرس الكتاب

الصفحة 4887 من 5761

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان

کون سی چیز محفوظ ہوتی ہے اور کون سی غیر محفوظ؟

4887 أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ أَسْبَاطٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حُمَيْدٍ ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُهَا ثَلَاثُونَ دِرْهَمًا فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنْسِئُهُ ثَمَنَهَا قَالَ فَهَلَّا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ

حضرت صفوان بن امیہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں مسجد میں اپنی منقش ( دھاری دار) چادر پر سویا ہو اتھا جس کی قیمت تیس درہم تھی ۔ ایک ٖآدمی آیا اور اسے کھسکا لے گیا ۔ وہ آدمی پکڑا گیا اور نبی اکرمﷺ کے پاس لایا گیا ۔ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا ۔ میں آپ کے پاس آیا اور عرض کی: آپ صرف تیس درہم کے بدلے اس کا ہاتھ کاٹ رہے ہیں ؟ میں یہ چادر اس کو بیچ دیتا ہوں ۔ قیمت اس سے بعد میں لے لوں گا۔ آپ نے فرمایا: '' یہ سب کچھ میرے پاس مقدمہ لانے سے پہلے کیوں نہ کیا؟''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت