فهرس الكتاب

الصفحة 49 من 5761

کتاب: امور فطرت کا بیان

دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے کی ممانعت

49 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَشُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفَيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّا لَنَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ الْخِرَاءَةَ قَالَ أَجَلْ نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ وَيَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَقَالَ لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سےمنقول ہے کہ مشرکین نے (استہزاء) کہا: ہم دیکھتے ہیں کہ تمھارا نبی تمھیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی بتاتا ہے۔ انھوں نے فرمایا: ہاں! آپ نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص داہنے ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلہ رخ بیٹھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کوئی شخص تین سے کم ڈھیلوں سے استنجا نہ کرے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت