فهرس الكتاب

الصفحة 4957 من 5761

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان

ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابوبکر کا اس حدیث میں عمرہ پر اختلاف

4957 أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ عَنْ الْعَرْزَمِيِّ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ أَدْنَى مَا يُقْطَعُ فِيهِ ثَمَنُ الْمِجَنِّ قَالَ وَثَمَنُ الْمِجَنِّ يَوْمَئِذٍ عَشْرَةُ دَرَاهِمَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَأَيْمَنُ الَّذِي تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لِحَدِيثِهِ مَا أَحْسَبُ أَنَّ لَهُ صُحْبَةً وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ حَدِيثٌ آخَرُ يَدُلُّ عَلَى مَا قُلْنَاهُ

حضرت عطاء نے حضرت ایمن مولیٰ ابن زبیر یا مولیٰ زبیر سے بیان کیا وہ روایت کرتے ہیں حضرت تبیع سے اور وہ بیان کرتے ہیں حضرت کعب سے انہوں نے فرمایا: جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر عشاء کی نماز ( باجماعت) پڑھے ، پھر اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے ان میں رکوع سجدہ پورا پورا کرے اور جو کچھ پڑھے ، سوچ سمجھ کر پڑھے تو یہ چار رکعات اس کے لیے ( ثواب کے لحاظ سے) لیلۃ القدر کی طرح بن جائیں گی۔

امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصد بالکل واضح ہے کہ حضرت عطاء کے استاد حضرت ایمن تابعی ہیں جو کبار تابعین سے بیان فرماتے ہیں ، جیسے وہ اس روایت میں حضرت تبیع تابعی سے بیان کر رہے ہیں ۔ اگر وہ صحابی ہوتے تو کسی صحابی سے یا رسول اللہﷺ سے بیان کرتے ۔ باقی رہے صحابی رسول حضرت ایمن بن ام ایمن تو ان سے حضرت عطاء کی ملاقات ہی نہیں ۔ آئندہ حدیث بھی اسی بات کی تائید کے لیے ذکر فرما رہے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت