فهرس الكتاب

الصفحة 4986 من 5761

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان

چور کا ہاتھ کاٹنے کےبعد اس کی گردن میں لٹکا نا

4986 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ قَالَ قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَرَأَيْتَ تَعْلِيقَ الْيَدِ فِي عُنُقِ السَّارِقِ مِنْ السُّنَّةِ هُوَ قَالَ نَعَمْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ وَعَلَّقَهُ فِي عُنُقِهِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ضَعِيفٌ وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ

حضرت عبد الرحمٰن بن محیریز بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت فضالہ بن عبید ؓسے پوچھا فرمائیں کیا چور کا ہاتھ اس کے گلے میں لٹکا نا سنت ہے ؟ انہوں نےفرمایا:ہاں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاس ایک چور لایا گیا ۔آپ نے اس کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکا دیا۔

ابو عبد الرحمٰن (امام نسائی رح) نے فرمایا: (اس حدیث(اور سابقہ حدیث کا راوی ) حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہے ۔ اس کی حدیث قابل حجت نہیں ہوتی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت