5008 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ و حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً أَفْضَلُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَوْضَعُهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنْ الطَّرِيقِ وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنْ الْإِيمَانِ
حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' ایمان کی ستر سے زائد شاخین ہیں ۔ ان میں سے افضل کلمہ تو حید (ورسالت ) کی ادائیگی ہ ۔اور ان میں سے کم مرتبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا ہے ۔اور حیا بھی ایمان کی ایک (اہم ) شاخ ہے ۔،،
(1) ''شاخوں ،،سےمراد عقائد واعمال اور اخلاق ہیں
(2) ''افضل ،، کیونکہ اس ک بغیر ایمان معتبر ہی نہیں ہوتا ۔
(3) ''کم مر تبہ ،،یعنی درجے اور ثواب کے لحاظ سے یا محبت اور مشقت کے لحاظ سے یا حصول وجود کے لحاظ سے ۔
(4) ''تکلیف دہ ،،جسمانی طور پر ، جیسے روڑ یے اور کانٹے وغیرہ یا روحانی طور پر جیسے نجاست اور بدبووغیر ہ ۔واللہ اعلم.