فهرس الكتاب

الصفحة 5056 من 5761

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل

مونچھیں کاٹنا

5056 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرًا رَجْلًا لَيْسَ بِالْجَعْدِ وَلَا بِالسَّبْطِ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ

حضرت انس ﷜ سےر وایت ہے ، انہوں نے فرمایا: نبئ اکرمﷺ کے سر کے بال لہردار تھے۔ نہ گھنگھریالے نہ بالکل سیدھے۔ (اور عمومًا) کانوں اور کندھے کے درمیان رہتے تھے۔

1۔'لہردار' ممکن ہے پیدائشی طور پر لہر دار ہوں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لمبے ہونے کی وجہ سے ان میں بل پڑ گئے ہوں۔ لمبے بالوں میں عمومًا ایسے ہوتا ہے۔2۔ کانوں اور کندھوں کے درمیان' معلوم ہوتا ہے کہ آپ کانوں کے نچلے حصے کے برابر بال کاٹ لیتے ہوں گے۔ جب وہ بڑھتے بڑھتے کندھوں کو لگنے لگتے تو پھر کاٹ دیتے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آپ سر جھکاتے تو آپ کے بال مبارک کانوں کے برابر محسوس ہوتے اور جب سرمبارک اٹھاتے تو کندھوں کولگتے تھے۔ عام حالات میں کانوں اور کندھوں کےدرمیان رہتے۔ واللہ اعلم۔ 3۔ دونوں صورتوں میں بال کٹوانے پر دلالت ہوتی ہے۔4۔ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ڈاڑھی اور سرکے بالوں کاحکم الگ الگ ہے۔ سر کے بال کٹوانا او رمنڈوانا دونوں جائز ہیں جبکہ ڈاڑھی کےبال کٹوانا اور منڈوانا دونوں ناجائز اور حرام کام ہیں۔5۔ رسول اللہﷺ حسن تخلیق کا شاہکار تھے، اس لیے نیم گھنگریالے بال ہی حسن و جمال کی علامت ہوں گے جیسا کہ نبیﷺ کے بال تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت