فهرس الكتاب

الصفحة 5068 من 5761

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل

زلفیں اور مینڈھیاں

5068 أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الْأَغَرِّ بْنِ حُصَيْنٍ النَّهْشَلِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي زِيَادُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنْهُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى ذُؤَابَتِهِ ثُمَّ أَجْرَى يَدَهُ وَسَمَّتَ عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُ

زیاد بن حصین اپنے والد محترم ( حصین بن اوس ﷜) سے بیان کرتے ہیں کہ جب وہ نبئ اکرمﷺ کے پاس مدینہ منورہ پہنچے تو آپ نے ان ےس فرمایا: آگے آجاؤ۔ جب وہ آپ کے قریب آگئے تو آپ نے اپنا ہاتھ ان کے لمبے لمبے بالوں پر رکھا اور سارے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کو دعا دی اور خوب دعا دی۔

'ذؤابہ' مینڈھی کو بھی کہتے ہیں ، یعنی گندھے ہوئے بال۔ اور لٹکتے ہوئےبالوں کو بھی کہہ دیا جاتا ہے جنہیں زلفیں بھی کہا جاتا ہے۔ ویسے زلفیں ان بالوں کو کہا جاتا ہے جو چہرے پر لٹکتے ہوں۔ واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت