فهرس الكتاب

الصفحة 5079 من 5761

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل

کالا خضاب کرنے کی ممانعت

5079 أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ

حضرت جابر ﷜ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوقحافہ﷜ کو فتح مکہ کے دن لایا گیا تو ان کے سر اور ڈاڑھی کے بال ثغامہ پودے ( کے پھل اور پھول) کی طرح بالکل سفید تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کو کسی رنگ سے بدل دو مگر سیاہ رنگ سے پرہیز کرنا۔

1۔ثغامہ ایک پودا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پراگتا ہے ۔ اس کو سفید پھل اور پھول لگتے ہیں۔ جب وہ خشک ہوجاتا ہے تو اس کی سفیدی بڑھ جاتی ہے۔ اور پھولوں کی کثرت کی بنا پر دور سے درخت بھی سفید ہی نظر آتا ہے۔2۔ 'پرہیز کرنا' جب بوڑھے شخص کو جس سے دھوکے کا خطرہ نہیں، سیاہ رنگ منع ہے تو جس شخص میں دھوکے کا امکان ہے، اسے کیسے اس کی اجازت ہوسکتی ہے۔3۔ 'ابوقحافہ' حضرت ابوبکر صدیق کے والد گرامی تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت