فهرس الكتاب

الصفحة 5137 من 5761

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل

عورت نے خوشبو لگائی ہو تو وہ مسجد میں نماز کے لیے نہیں آسکتی

5137 أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ بَلَغَنِي عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الصَّلَاةَ فَلَا تَمَسَّ طِيبًا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَهَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ

حضرت زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت نماز پڑھنے ( مسجد میں) آ ئے تو کسی بھی قسم کی خوشبو نہ لگائے۔

ابوعبدالرحمن ( امام نسائی﷫) نے کہا کہ یہ مذکورہ حدیث، زہری کی حدیث ( کے طور پر) غیر محفوظ ( اور شاذ ) ہے۔

امام نسائی﷫ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ روایت بسند عن الزہری عن بسر بن سعید عن زینب الثقفیۃ درست نہیں بلکہ صحیح روایت بایں سند ہے: عن بکیر عن بسر بن سعید عن زینب الثقفیۃ کیونکہ حفاظ محدثین﷭ نے یہ روایت اسی طرح ( بکری کی سندسے) بیان کی ہے۔ زہری کی سند سے بیان کرنے والا سنید ہے اور وہ ضعیف راوی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت