فهرس الكتاب

الصفحة 5248 من 5761

کتاب: زینت سے متعلق احکام و مسائل

بالوں میں دوسرے بال ملانا(ناجائز ہے)

5248 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا وَأَخَذَ كُبَّةً مِنْ شَعْرٍ قَالَ مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ

حضرت سعید بن مسیب سےر وایت ہے ، انہوں نے فرمایا: حضرت معاویہ ﷜ مدینہ آئے تو ہم سے خطاب فرمایا ۔ انہوں نے بالوں کا ایک گچھا پکڑا اور فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ یہودیوں کے علاوہ اور کوئی شخص یہ کام کرتا ہو گا ۔ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ نے اسے ''زور '' ( جعل سازی ) قرار دیا۔

الزور کے معنی ہیں:''باطل ، جھوٹ ،جعل سازی '' وغیرہ ۔ مذکورہ فعل کوزور کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ ایک فریب ہے کہ کسی دوسرے کے بال کوئی اپنےسر میں لگالے اور لوگوں کودکھائے کہ یہ میرے سر کے بال ہیں ۔ یہ ناجائز ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت