فهرس الكتاب

الصفحة 5250 من 5761

کتاب: زینت سے متعلق احکام و مسائل

دھجی سے بال جوڑنا

5250 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الزُّورِ وَالزُّورُ الْمَرْأَةُ تَلُفُّ عَلَى رَأْسِهَا

حضرت معاویہ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جعل سازی سے منع فرمایا ۔ اور جعل سازی یہ ہے کہ عورت اپنےسرپر ( جعلی بال وغیرہ ) لپیٹ لے ۔

''لپیٹ لے'' تاکہ زیادہ معلوم ہوں ۔ مقصد دوسروں کو دھوکا دینا ہوتا ہے یا اپنے حسن میں اضافہ اور یہ دونوں چیزیں منع ہیں ۔ دھوکا دہی بھی اور تکلف کے ساتھ حسن میں اضافہ بھی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت