کتاب: زینت سے متعلق احکام و مسائل
5356 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ فِي بَيْتِي ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ فَجَعَلْتُهُ إِلَى سَهْوَةٍ فِي الْبَيْتِ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ أَخِّرِيهِ عَنِّي فَنَزَعْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے گھر میں ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں۔ میں نے اسے گھر میں ایک طاق کے آگے لگا دیا۔ رسول اللہﷺ اس طاق کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے۔ آپؐ نے دیکھا تو فرمایا: ''عائشہ! اس کو مجھ سے دور ہٹادے۔'' میں نے اسے اتار کر اس کے تکیے بنا لیے۔
''تصویریں'' ممکن ہے غیر ذی روح کی تصویریں ہوں مگر نماز میں قبلہ کی جانب نقش و نگار توجہ بٹنے کا سبب بن جاتے ہیں، اس لیے ہٹانے کا حکم دیا۔ اور اگر ذی روح کی تصویریں تھیں تو پھر ایسا کپڑا احترام والی جگہ لٹکانا ناجائز تھا، اس لیے اتار کر تصویریں کاٹنے کا حکم دیا۔