فهرس الكتاب
کتاب: زینت سے متعلق احکام و مسائل
5372 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى جَبْهَتِهِ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا
حضرت ابو رزین بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو رہریرہ کو دیکھا، وہ اپنا ہاتھ اپنے ماتھے پر (بطور تعجب و تاسف) ماررہے تھے اور فرمارہے تھے: او عراقیو! تم سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہﷺ کا نام لے کر جھوٹ بول رہا ہوں؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''جب تم میں سے کسی شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسرا (ایک) جوتا پہن کر نہ چلے حتیٰ کہ اسے ٹھیک کرلے۔''
1۔ ''سمجھتے ہو'' شاید کسی نے ان کے بکثرت روایت کرنے پر کچھ زبان درازی کی ہو۔ عراقی کچھ ایسے ہی تھے۔
2۔ ''ٹھیک کرے'' مولوم ہو امومن کو اپنے وقار کا لحاظ رکھنا چاہے، لباس میں بھی اور چال ڈھال میں بھی ایسا بھی سادہ نہ ہو کہ وقار کی پرواہی نہ کرے اور لوگوں کے لیے اضحو کہ اور طنز کا سامان بنا رہے۔