فهرس الكتاب

الصفحة 5392 من 5761

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان

مشابہت اور قیاس کے ساتھ فیصلہ کرنا اور ابن عباس کی حدیث میں(راویوں کا)ولید بن مسلم پر اختلاف

5392 أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ح وَأَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْفَضْلُ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يُجْزِئُ قَالَ مَحْمُودٌ فَهَلْ يَقْضِي أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ فَقَالَ لَهَا نَعَمْ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ فَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَا ذَكَرَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ

حضرت ابن عباس﷠ نے بیان فرمایا کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہﷺ سے مسئلہ پوچھا جب کہ فضل﷜ رسول اللہﷺ کے ساتھ آپ کی سواری کے پیچھے بیٹھے تھے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسولؐ! اللہ تعالیٰ کا اس بندوں پر فریضہ حج، میرے والد پر اس وقت (فرض) ہوا جبکہ وہ بہت بوڑھے ہیں۔ وہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے تو کیا یہ درست ہے کہ میں ان کی طرف سے حج ادا کروں؟ آپ نے فرمایا: ''ہاں'' اور (راویٔ حدیث استاد) محمود نے کہا: یقضی (جبکہ استاد عمرو بن عثمان کے لفظ تھے: یجزیءٌ)

ابو عبد الرحمان (امام نسائی﷫) نے کہا ہے کہ امام زہری سے کئی لوگوں نے یہ روایت بیان کی ہے مگر جوولید بن مسلم نے بیان کیا ہے، وہ کسی نے نے بیان نہیں کیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت