فهرس الكتاب

الصفحة 543 من 5761

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل

عشاء کی نماز کو عتمہ کہنا مکروہ ہے

543 أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ لَا تَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ أَلَا إِنَّهَا الْعِشَاءُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا: ''یہ اعرابی (بدوی لوگ) تمھاری اس نماز کے نام (کے معاملے) میں تم پر غالب نہ آجائیں۔ خبردار! بلاشبہ یہ عشاء ہے۔

(۱) پچھلے باب والی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عتمہ فرمایا ہے اور ان دو روایات میں اس سے روکا گیا ہے، لہٰذا یا تو پہلی روایت نہی سے پہلے کی ہوگی یا عتمہ کہنا جائز تو ہوگا مگر مناسب نہیں، یعنی مکروہ تنزیہی ہوگا کیونکہ قرآن مجید میں اس نماز کا نام صراحتًا عشاء ہے۔ اگر نام بدل گیا تو عشاء کی نماز کے احکام مجہول ہوجائیں گے۔ (۲) اعراب (بدوی لوگ) صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے تھے کہ عشاء کو عتمہ کہتے تھے بلکہ وہ مغرب کی نماز کو عشاء کہتے تھے۔ یہ تو قطعًا درست نہیں کیونکہ پھر عشاء کی نماز کے احکام مغرب پر جالگیں گے اور بہت پیچیدگی پیدا ہوجائے گی۔ عشاء کو عتمہ کہنا تو وصف کی بنا پر ہے، اس لیے اس میں کچھ نرمی ہے مگر مغرب کو عشاء کہنا قطعًا درست نہیں ہے۔ (۳) اعراب سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحرا میں الگ تھلگ رہتے تھے۔ شہروں اور بستیوں سے دور اور ان کی تہذیب سے نفور۔ انھیں بدوی بھی کہا جاتاہے۔ یہ لوگ فصاحت و بلاغت اور خالص عربی زبان کے ماہر تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت