ان سورتوں کا بیان جن کے ذریعے سے پناہ پکڑی جاتی ہے۔
5435 أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ فَرَكِبَهَا وَأَخَذَ عُقْبَةُ يَقُودُهَا بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُقْبَةَ اقْرَأْ قَالَ وَمَا أَقْرَأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اقْرَأْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ فَأَعَادَهَا عَلَيَّ حَتَّى قَرَأْتُهَا فَعَرَفَ أَنِّي لَمْ أَفْرَحْ بِهَا جِدًّا قَالَ لَعَلَّكَ تَهَاوَنْتَ بِهَا فَمَا قُمْتُ يَعْنِي بِمِثْلِهَا
حضرت عقبہ بن عامرنے فرمایاکہ نبئ اکرمﷺکو ایک سفیدخچر بطورتحفہ پیش کیا گیا۔آپ اس پر سوار ہوئے اور عقبہ اس کی لگام پکڑکر آگے آگے چلنے لگا ۔رسول اللہﷺنے عقبہ سے فرمایا:''پڑھ۔''اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!کیا پڑھوں؟آپ نے فرمایا:''پڑھ (قل اعوذبرب الفلق۔من شرماخلق) ''آپ نے مجھ پر پوری سورت پڑھی حتٰی کہ میں نے بھی پڑھی ۔آپ نے محسوس فرمایاکہ میں اس کے ساتھ زیادہ خوش نہیں ہوا ۔آپ نے فرمایا:''شاید تو نے اس کو معمولی سمجھا ہے ۔میں نے کبھی نماز میں اس جیسی سورت نہیں پڑھی۔'
یعنی استعاذے کے سلسلے میں یہ سب افضل ہے کیونکہ یہ انتہائی جامع ہے اور اس میں ہر قسم کاشر ذکر کر کے اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کی گئی ہے ۔