فهرس الكتاب
5560 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ الْبُسْرُ وَحْدَهُ حَرَامٌ وَمَعَ التَّمْرِ حَرَامٌ
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا:بسر ،یعنی گدر کھجور اکیلی کی نبیذ بھی حرام ہے اور خشک کھجور کے ساتھ ملا کر بھی حرام ہے ۔
ممکن ہے بسر کی نبیذ میں جلدی نشہ پیدا ہوتا ہو ،اس لیے حضرت ابن عباس ؓ اسے حرام سمجھے ہوں۔
بہر صورت یہ حرام تبھی ہے جب اس میں نشہ پید ا ہو جائے ورنہ نہیں مگر بسر وتمر کی مشترکہ نبیذ ہر حال میں حرام ہے نشہ پیدا ہو یا نہ ہو ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مطلقا منع فرمایا ہے ۔اگر چہ احناف کے نزدیک مشترکہ نبیذ اگر نشہ آور نہ ہو تو جائز ہے مگر یہ صریح احادیث کے خلاف ہے ۔رائے اور قیاس نص کے مقابلے میں مذموم ہے ۔ (مزید دیکھیے ،حدیث:5549)