فهرس الكتاب

الصفحة 56 من 5761

کتاب: امور فطرت کا بیان

پانی میں کوئی حد بندی نہیں

56 أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدوی مسجد میں کھڑا ہوا اور اس نے پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے اسے جا لیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اسے کچھ نہ کہو اور اس کے پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔ تمھیں نرمی اور آسانی کے لیے بھیجا گی ہے، نہ کہ سختی اور تنگی کے لیے۔''

یہ روایت بظاہر ان روایات کے خلاف ہے جن میں زمین کے خشک ہونے کو اس کی پاکیزگی کہا گیا ہے مگر کہا جا سکتا ہے کہ وہ روایات اس زمین کے بارے میں ہیں جس کی نجاست کا بروقت پتہ نہ چلے اور خشک ہو جائے اور یہ روایت اس زمین کے بارے میں ہے جس کی نجاست کا بروقت پتہ چل جائے جیسا کہ مذکورہ واقعے میں ہے۔ یا اس روایت میں وقتی طہارت کا ذکر ہے اور ان روایات میں مستقل طہارت کا۔ کسی روایت کو چھوڑ دینے سے بہتر ہے کہ اس پر مخصوص حالت میں عمل کیا جائے۔ روایات کے درمیان تطبیق دینا ان میں سے کسی کے ترک سے بہت اولیٰ ہے۔ واللہ أعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت