فهرس الكتاب

الصفحة 5647 من 5761

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

اس بات کی دلیل کہ مذکورہ برتنوں سےنہی قطعا حرمت پرمحمول تھی نہ کہ کراہت پر

5647 أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ عَمٍّ لَهَا يُقَالُ لَهُ أَنَسٌ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا آتَاكُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا قُلْتُ بَلَى قَالَ أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ

حضرت اسماء بنت بزید سے روایت ہے کہ ان کے چچا زاد بھائی حضرت انس سے منقول ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا: کیا اللہ تعالی نے (قرآن مجید میں) یہ نہیں فرمایا: ''او جو کچھ تمھیں اللہ کا رسول دے ، وہ لے لو اور جس چیز سےروک دے ، اس سے رک جاؤ ۔،، میں نےکہا: کیو ں نہیں (بلکہ فرمایاہے ۔) پھر انھوں کہا:کیا اللہ تعالی نےیہ نہیں فرمایا: ''کسی مومن مرد یا مومنہ عورت کو لائق نہیں کہ جب اللہ تعالی اور اس کا رسول فیصلہ فرما دیں تو وہ اپنا اختیار استعمال کرے ؟،، میں نے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےکھجور کی جڑ کے برتن ، تارکول لگے برتن ، کدو کے برتن اور روغنی مٹکے سےمنع فرمایاہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت