فهرس الكتاب

الصفحة 566 من 5761

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل

عین نصف النھار کے وقت نماز کی ممانعت

566 أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: تین اوقات ایسے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں ہمیں نماز پڑھنے اور میت کے دفن کرنے سے روکا ہے: جب سورج روشن ہوکر طلوع ہورہا ہو حتیٰ کہ بلند ہوجائے اور جب دوپہر کے وقت سورج سر پر کھڑا ہو حتیٰ کہ ڈھل جائےا ور جب وہ غروب کے وقت کے قریب ہو حتیٰ کہ غروب ہوجائے۔

مجموعی طور پر پانچ وقت، نماز کے لیے مکروہ ہیں: (۱) طلوع، (۲) استوا، (۳) غروب، (۴) بعدازصبح، (۵) بعداز عصر جبکہ سورج زردی مائل ہوچکا ہو۔ تفصیل کے لیے دیکھیے فوائد حدیث: ۵۶۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت