فهرس الكتاب

الصفحة 5710 من 5761

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

وہ احادیث جن سے بعض لوگوں نے نشہ آور مشروب پینے کا جواز نکالا ہے

5710 أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ قَالَ كَانَ النَّبِيذُ الَّذِي يَشْرَبُهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَدْ خُلِّلَ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ هَذَا حَدِيثُ السَّائِبِ

حضرت عقبہ بن فرقد سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ جو نبیذ حضرت عمر بن خطاب نوش فرمایا کرتے تھے وہ سرکہ کی طرح ترش ہوتا تھا۔

اس روایت کی صحت پر حضرت سائب کی آئندہ روایت بھی دلالت کرتی ہے۔

اس میں پانی ترشی کی وجہ سے ملایا جاتا تھا نہ کہ نچے کی وجہ سے جس طرح سرکہ ترش ہوتا ہے۔ترشی اور نشے میں بہت فرق ہے ورنہ تو سرکہ بھی حرام ہوتا۔ایسی ترش نبیذ سرکے کی طرح ہضم کے لیے پی جاتی تھی نیز راجح قول کے مطابق یہ اثر صحیح ہے جیساکہ امام نسائی ؒ نے بھی اشارہ کیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت