فهرس الكتاب

الصفحة 5751 من 5761

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

نبیذ کی بابت ابراہیم نخعی پر اختلاف کا بیان

5751 أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ لَا بَأْسَ بِنَبِيذِ الْبُخْتُجِ

حضرت ابراہیم سے مروی ہے کہ پختہ نبیذ (شیرے) میں کوئی حرج نہیں۔

پختہ''عربی میں لفظ بختج استعمال ہوا ہے جو کہ دراصل پختہ کا ہی عربی تلفظ ہے اس سے مراد وہ نبیذ ہے جسے آگ پر پکا کر تیار کیا جائے مثلًا طلاء جس کی تفسیر پیچھے گزرچکی ہے۔لیکن اس کیے بھی ضروری ہے کہ اس میں نشہ نہ پایا جائے۔ (دیکھئے احادیث 5718۔5730)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت