5754 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ مَا وَجَدْتُ الرُّخْصَةَ فِي الْمُسْكِرِ عَنْ أَحَدٍ صَحِيحًا إِلَّا عَنْ إِبْرَاهِيمَ
حضر ابو اسامہ سے روایت ہے ہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے سنا وہ فرمارہے تھے کہ میں نے ابراہیم نخعی کے علاوہ کسی (صحابہ یا تابعی) سے نشہ آور نبیذ پینے کی رخصت صحیح سند کے ساتھ نہیں پائی۔
گویا اس مسئلے میں حضرت ابراہیم نخعی منفرد ہیں۔تمام صحابہ وتابعین ہر نشہ آور مشروب کو مطلقًا ممنوع قراردیتے ہیں جب کہ ابراہیم نخعی نے قلیل اجازت دی ہے۔اسی سے ان کے قول کی وقعت اورحیثیت معلوم ہوجاتی ہے۔صحابہ کے اجماع کی مخالفت کوئی معمولی بات نہیں۔اگر کوئی جان بوجھ کر کرے توقرآن میں اس کے لیے بڑے سخت الفاظ آئے ہیں۔اللہ بچائے