فهرس الكتاب

الصفحة 600 من 5761

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل

کس حالت میں دو نمازیں اکٹھی پڑھ سکتا ہے

600 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَوْ حَزَبَهُ أَمْرٌ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلنے کی جلدی ہوتی یا کوئی مسئلہ آپ کو بے چین کرتا تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع فرماتے۔

مذکورہ روایت صحیح ہے، البتہ اس روایت کے الفاظ [اوحزبہ امر] ''یا کوئی مسئلہ آپ کو بے چین کرتا۔'' کو محققین نے شاذ قرار دیا ہے۔ محقق کتاب نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ جملہ صرف مجھے یہاں ہی ملا ہے کسی اور جگہ نہیں ملا۔ دیکھیے: (صحیح سنن النسائی للالبانی، حدیث:۵۹۸)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت