جو آدمی نماز سے سویا رہے تو؟
616 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْمَهُمْ عَنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ کبھی ہم نماز سے سوئے رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ''نیند ااجانے میں قصور اور کوتاہی نہیں۔ کوتاہی تو یہ ہے کہ آدمی جاگتا ہوا نماز نہ پڑھے، چنانچہ جب تم میں سے کوئی بھول جائے یا اس سے سویا رہ جائے تو جب اسے یاد آئے (یا جاگے) تو اسی وقت نماز پڑھ لے۔''