فهرس الكتاب

الصفحة 658 من 5761

کتاب: اذان سے متعلق احکام و مسائل

پہلی نماز کا وقت ختم ہونےکے بعد دو نمازیں جمع کرنے کی صورت میں ایک ہی اذان کافی ہے

658 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا مَعَهُ بِجَمْعٍ فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ قَالَ هَكَذَا صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ

حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ہم مزدلفہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے۔ آپ نے اذان کہی، پھر اقامت کہی اور ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: نماز کے لیے اٹھو، چنانچہ آپ نے ہمیں عشاء کی نماز دو رکعت پڑھائی۔ میں نے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جگہ ایسے ہی نماز پڑھی تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت