661 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ وَكِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَهُمَا بِالْمُزْدَلِفَةِ صَلَّى كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يَتَطَوَّعْ قَبْلَ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا وَلَا بَعْدُ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھی تھیں۔ آپ نے ان میں سے ہر نماز الگ اقامت سے پڑھی اور ان میں کسی نماز سے بھی آگے یا پیچھے نفل نہیں پڑھے۔
اس روایت میں ہر نماز کے لیے الگ اقامت کا ذکر ہے جب کہ پچھلی تین روایات میں دونوں کے لیے ایک اقامت کا ذکر ہے اور یہ چاروں روایات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے ہیں۔ پچھلے باب کی پہلی روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ہے اور اس میں صراحتًا دو اقامتوں کا ذکر ہے اور یہی صحیح ہے۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے بھی دو اقامتوں کی صراحت آئی ہے، لہٰذا جس روایت میں ایک اقامت کا ذکر ہے اس سے مراد ہر نماز کے لیے ایک اقامت ہوگی یا پھر ایک اقامت والی روایت شاذ ہے۔ لیکن بعض کا کہنا ہے کہ جب اس طرح تطبیق ممکن ہے تو پھر شذوذ کے دعوے کی ضرورت نہیں، البتہ اذان ایک ہی کافی ہے کیونکہ وہصرف لوگوں کو بلانے کے لیے ہوتی ہے۔ جمع کی صورت میں دوسری نماز کے لیے لوگ پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔