756 أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ كَرِهْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ انْسَلَلْتُ انْسِلَالًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی تھی جب کہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ جب میں اٹھنے کا ارادہ کرتی تو پسند نہ کرتی کہ سیدھی کھڑی ہوں اور آپ کے آگے سے گزروں، اس لیے میں لیٹی لیٹی کھسک جاتی۔
اس سے معلوم ہوا کہ نمازی کے آگے عورت کا لیٹا ہوا ہونا اور بات ہے اور گزرنا اور بات۔ اول الذکر سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ گزرنے سے مراد کسی کا نمازی کے آگے سے اس کی ایک جانب سے دوسری جانب، پار کرتا ہے، حدیث میں وارد ''مرور'' کی ممانعت سے یہی مقصود ہے، لہٰذا نمازی کے سامنے بیٹھے یا لیٹے انسان کے ایک طرف کھسکنے کو مرور (گزرنا) نہیں کہتے۔